جان کو خطرے میں سمجھتے ہوئے بیٹی کا رشتہ دینا جائز ہے؟

سوال:میری نابالغہ بیٹی کا نکاح میری غیر موجودگی میں میرے والد لڑکی کے دادا نے کسی شخص سے طے کردیا ۔مختصر تفصیل یہ ہے کہ ہمارا کچھ لوگوں سے اختلاف ہوا یہاں تک کہ جھگڑے کی نوبت آگئی ،جرگہ منعقد ہوا ۔مخالف فریق کے کسی آدمی نے اسلحہ تان لیا ،ہمارے آدمی نے بندوق لے کر پھینک دی جس سے بندوق کی نالی ٹیڑھی ہوگئی ،جھگڑا مزید بڑھا اور کسی فیصلے کے بغیر ختم ہوگیا ۔بعدازاں بندوق کا نقصان بھی ہم نے پوراکیا اور فریقِ مخالف نے اسلحہ کے زور پر ایک رشتہ طلب کیا ۔

میرے والد صاحب نے اپنی اولاد کی جان کو خطرے میں سمجھتے ہوئے میری بیٹی کا رشتہ دے دیا ۔مجھے جب اِس بات کا علم ہوا تو میں نے سرِ عام رَد کردیا ۔واضح رہے کہ باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نکاح نہیں کیا گیا، بلکہ محض رشتہ طے کیاگیا تھا ۔شریعتِ مطہرہ میں اس بابت کیا حکم ہے ،کیا یہ نکاح کہلائے گا یا نہیں؟(ملک امان ،مانسہرہ )

جواب: نکاح ایجاب وقبول سے منعقد ہوتاہے ۔علامہ برہان الدین ابو بکر الفرغانی حنفی لکھتے ہیں:ترجمہ:’’نکاح ایجاب وقبول سے منعقدہوجاتاہے ، (ہدایہ ،جلد3،ص:3)‘‘۔آپ کے بیان کے مطابق چونکہ آپ کے والد نے یہ رشتہ طے کردیا ،عرف میں اِسے منگنی کہاجاتاہے۔ منگنی وعدۂ نکاح ہے ، نکاح نہیںہے۔علامہ علاؤالدین حصکفی لکھتے ہیں :ترجمہ:’’ ایک شخص نے دوسرے سے کہا :’تونے اپنی بیٹی مجھے دی ‘‘ (دوسرے نے کہا :میں نے دی )اگر یہ مجلس ِنکاح ہو تو نکاح ہوگا اور اگر مجلسِ منگنی ہو تو منگنی ہوگی ،(ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ،جلد4،ص:62-63،داراحیاء التراث العربی ،بیروت)‘‘۔تاہم بحیثیت والد آپ ولیٔ اقرب ہیں ،بچی کے حق میں آپ کے فیصلے کو دادا پرتقدُّم حاصل ہے ۔

مذکورہ صورت میںمحض رشتہ طے کیا گیاہے ،اور رشتہ ختم کرنے کے لئے کسی پابندی کی ضرورت نہیں یا کوئی علیحدہ سے طریقۂ کار متعین نہیںہے اور منگنی ختم ہوجانے کی صورت میں نہ تو مہر واجب ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی حقوق ایک دوسرے سے متعلق لازم ہوتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں