حاملہ خواتین کو الٹرا ساؤنڈ پر بچے کی جنس بتانے پر پابندی کا قانون لایا جائے گا تاکہ

لاہور: وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے اعلان کیا ہے کہ صنفی امتیازی کے خاتمے کیلئے حاملہ خواتین کو الٹرا ساؤنڈ پر بچے کی جنس بتانے پر پابندی کا قانون لایا جائے گا تاکہ بچی ہونے کی صورت میں اسقاط حمل کرانے کے قابل مزمت رحجان کا خاتمہ کیا جا سکے،

پنجاب حکومت اور اقوام متحدہ کے ایک بڑے ادارے یو این ویمن کے اشتراک سے صنفی تشدد کے خاتمے پر بطور مہمان خصوصی خطاب میں انہوں کہا لوگ دوران حمل ہی بچے کی جنس معلوم کراتے ہیں اور بیٹا نہ ہونے کی صورت میں اسقاط حمل کروا لیتے ہیں جو کہ بلکل غلط ہے ، انہوں نے کہا وزیر اعظم عمران خآن کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہ وہ خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہ کہ وہ آج جس مقام پر ہیں اپنی والدہ کے وجہ سے ہیں۔ ماں سے محبت کے ثبوت میں انہوں نے شوکت خانم ہسپتال جیسا اعلیٰ بین الاقوامی سطح کا ہسپتال بھی تعمیر کروایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کے حقوق کا اجاگر کئے بغیر اس کام کی روک تھام کرنا ممکن نہیں ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا حضور اکرم ؐ نے چودہ سو سال قبل بچیوں کو زندہ درگور کرنے کی روایت کا خاتمہ کر دیا ہے، اسلام میں خواتین کو برابر کے حقوق دینا ہے ہمیں اسلامی تعلیمات کا عملی نفاذ کرنا ہو گا۔ یاسمین راشد نے واضح کیا کہ خواتین کے تشدد کے خاتمے پر پنجاب حکومت نے عزم کا واضح اظہار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں