اور لاہور کا وہ رئیس ابن رئیس۔۔۔۔رؤف طاہر

لاہور (ویب ڈیسک) وہ جو قرآن پاک میں ارشاد ہوا، تِلک الایّام نداولہا بین الناس۔جناب ہارون الرشید کا (13دسمبر کا)”ناتمام ‘‘ادلتے بدلتے دنوں کی کہانی ہے، کئی کہانیوں کی ایک کہانی… ان میں لاہور کے ایک رئیس کی مختصر سی کہانی بھی تھی اور وہی تین سطور اس کالم کا محرک بن گئیں۔

نامور کالم نگار رؤف طاہر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔برصغیر کے ایک معروف علمی، ادبی اورسیاسی خانوادے کا چشم وچراغ، رئیس ابنِ رئیس ، ابنِ رئیس جس نے زندگی کے آخری برس کس کسمپرسی میں گزارے، منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہونے والا، آخری ایام میں کس طرح کوڑی کوڑی کا محتاج ہوا، یہ اپنی جگہ ایک الم انگیز اور عبرت خیز کہانی ہے۔ ٗٗٗٗٗٗٗٗاگست1997ء کی ایک دوپہر تھی۔ میاں منظر بشیر، جناب مجید نظامی سے ملاقات کے بعد باہر نکلے تو میں انہیں اپنے کمرے میں لے آیا۔ اس شخص کا سینہ کتنے ہی سیاسی رازوں کا دفینہ ہے، میں نے سوچا‘ لیکن تھکان اور اضمحلال ان کے چہرے اور لہجے سے عیاں تھا۔ وہ میرے لیے چند منٹ ہی نکال پائے۔ سردار عبدالرب نشتر کے لیے قائد اعظم کتنی اعلیٰ رائے رکھتے تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنے والد محترم میاں بشیر احمد سے قائد اعظم کی ایک گفتگو کا حوالہ دیا جس میں بانیٔ پاکستان نے فرمایا تھا کہ نشتر میں پاکستان جیسی نوزائیدہ مملکت کا وزیر اعظم بننے کیلئے بہترین صلاحیتیں موجود ہیں (سردار نشتر1945-46ء کے انتخابات میں مرکزی سطح پر مسلم لیگ کی انتخابی مہم میں مصروف رہے، چنانچہ صوبہ سرحد میں ان کے حلقہ انتخاب کی طرف توجہ نہ دی جاسکی اور وہ اپنی نشست ہار گئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پنجاب کے گورنر بنے)

ایک اور میٹنگ میں ایک مسلم لیگی لیڈر کا ذکر ہورہاتھا، ایک رائے یہ تھی کہ وہ خود تو ٹھیک ہیں لیکن ان کے ”رفقائ‘‘ انہیں غلط راہ پر ڈال دیتے ہیں جس پر قائد اعظم نے فرمایا: صحیح آدمی کو کبھی اس کے راستے سے نہیں ہٹایا جاسکتا اور غلط آدمی کو ہر وقت گمراہ کیا جاسکتاہے چنانچہ الزام اس کے رفقاء پر نہیں بلکہ براہِ راست خود اس پر آتا ہے۔اس دوران چائے آگئی ۔ میاں منظر بشیر نے ایک گھونٹ لیا، اپنی توانائی مجتمع کی اور گویا ہوئے: ”لارڈ مائونٹ بیٹن، آخری وائسرائے کی حیثیت سے ہندوستان پہنچ چکے تھے۔ 3جو ن کے منصوبے کے متعلق سیاسی جماعتوں میں بات چیت چل رہی تھی ۔ بنگال کا مستقبل بھی زیر بحث تھا۔ ایک رائے یہ تھی کہ بنگال تقسیم نہ ہو اور متحدہ بنگال ایک علیحدہ ملک کے طور پر موجود ہو۔ مسلم لیگ سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں میاں بشیر احمد نے قائد اعظم سے کہا کہ چونکہ وزیر اعلیٰ بنگال حسین شہید سہروردی، ورکنگ کمیٹی کے رکن نہیں، انہیں اس مسئلے پر اظہارِ خیال کے لیے خصوصی دعوت دی جائے۔ اگلے روز سہروردی اجلاس میں آئے۔سہروردی متحدہ بنگال کے حق میں تھے۔ قائد اعظم نے اپنی سوا گھنٹے کی تقریر میں کانگریس کے اصل عزائم سے پردہ اٹھایا کہ کانگریس کس طرح بنگالی مسلمانوں کو اپنی سازش کا شکار کرے گی اور آخرکار متحدہ بنگال، انڈیا کا حصہ بن جائے گا۔

اجلاس اگلے روز کے لیے ملتوی ہوگیا۔ اگلے روز سہروردی کا کہنا تھا:میںتمام رات سو نہیں سکااور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس بارے میں قائد اعظم کی رائے ہی درست ہے۔میں انہیں الوداع کہنے نیچے تک آیا۔ لفٹ سے نکل کر پوچھا،آپ کی گاڑی کدھر ہے؟… ”گاڑیاں اب کہاں؟ میں تو رکشے پر آیا تھا‘‘۔دفتر کے قریب ہی رکشہ مل گیا۔ انہوں نے ہاتھ ملایا اور سرجھکاکر رکشے میں داخل ہوگئے ۔چند قدم پر وسیع وعریض اور باوقار ”شاہ دین بلڈنگ ‘‘ کھڑی تھی۔ میں نے ایک نظر شہر کے مہنگے ترین علاقے میں منظر بشیر کے دادا سے منسوب اس بلڈنگ پر ڈالی۔ مڑ کر دیکھا تو رکشہ ہجوم میں غائب ہوچکاتھا ۔میں دیر تک اس خاندان کے عروج وزوال کے متعلق سوچتا رہا۔ یہ خاندان لاہور کے رؤسا میں شمار ہوتا تھا۔ اس دور کا کروڑ پتی خاندان ، جب لکھ پتی ہونا بھی بہت بڑی بات تھی لیکن اس کی شہرت دولت وثروت سے زیادہ علمی وادبی اور سیاسی حوالے سے تھی۔ ڈھاکا میں مسلم لیگ کے تاسیسی اجلاس (1906ئ)میں منظر بشیر کے دادا جسٹس شاہ د ین ہمایوں اور نانا سر شفیع بھی موجود تھے۔ مسلمانانِ برصغیر کی اس نوزائیدہ جماعت کا نام آل انڈیا مسلم لیگ انہوں نے ہی تجویز کیا تھا۔

منظر بشیر کے والد میاں بشیر احمد اچھے شاعر اور ادیب بھی تھے۔ 23مارچ1940ء کے تاریخی اجتماع میں، ان کی نظم:ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح ۔۔ ملت ہے جسم، جاں ہے محمد علی جناح ۔۔ برصغیر کے مسلمانوں کی آواز بن گئی۔ نوعمر منظر بشیر بھی اپنے والد کے ساتھ اس اجتماع میں شریک تھے۔ میاں بشیر احمد نے اپنے والد کی یاد میں ادبی جریدہ ”ہمایوں ‘‘جاری کیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے برصغیر کے ادبی جرائد میں ممتاز مقام بنالیا۔ شاعر اور ادیب جس میں چھپنا ، اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ۔ کتنے ہی اہلِ قلم تھے جو ہمایوں کے باعث نامور ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد میاں بشیر احمد ترکی میں سفیر نامزد ہوئے۔ لارنس روڈ لاہور پر ان کی رہائش گاہ ”المنظر‘‘ تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگ کی سرگرمیوں کا اہم مرکز تھی، اسے قائد اعظم کی میزبانی کا شرف بھی حاصل ہوا۔ علامہ اقبال سے بھی میاں بشیر احمد کے گہرے تعلقات تھے۔ 1935ء میں سروجنی نائید وعلامہ اقبال سے ملنے آئیں تو میاں بشیر احمد ان کے ہمراہ تھے۔ جب پاکستان وجود میں آیا، میاں منظر بشیر کا عنفوانِ شباب تھا۔ وہ مملکت خدا داد میں جمہوریت، سیاسی آزادیوں اور بنیادی حقوق کی ہر جدوجہد میں پیش پیش رہے۔

وہ”نجیب الطرفین‘‘ مسلم لیگی تھے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے سرکاری مسلم لیگ(کنونشن) کی داغ بیل ڈالی، تو انہوں نے اس کے مدمقابل مسلم لیگ (کونسل) سے وابستگی کو ترجیح دی کہ ان کے خیال میں قائد اعظم کا کوئی سچا پیر وکار کسی فوجی آمر کا آلہ کار نہیں بن سکتاتھا۔ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح ، فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف میدان میں اتریں تو منظر بشیر، قائد اعظم کی بہن کے ہر اول دستے میں شامل تھے۔ وہ مادر ملت کے کاغذات نامزدگی کے دستخط کنندگان میں بھی تھے۔ ”المنظر‘‘ لاہور میں ایوب خان کے خلاف تحریک کا اہم مورچہ تھی۔ مادرِ ملت نے انتخابی مہم کے دوران لاہور میں یہیں قیام کیا۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد”اعلانِ تاشقند‘‘ کی مخالفت میں بھی یہ پیش پیش تھے جس پر حزبِ اختلاف کے دیگر رہنمائوں کے ساتھ حوالۂ زنداں بھی ہوئے۔لیکن بدقسمتی نے ان کا گھر دیکھ لیا تھا۔ ان کی رہائی کے لیے اہلیہ نے شہر کے ایک معروف ترقی پسند وکیل کی خدمات حاصل کیں اور کچھ عرصہ بعد وہ محترمہ، منظر بشیر کے ساتھ ازدواجی بندھن سے آزاد ہوگئیں۔ چالیس کے پیٹے میں منظر بشیر کے لیے یہ صدمہ بہت سنگین تھا۔ ایوب خان کے دورِ زوال میں، سیاست میں ایئر مارشل اصغر خان کی آمد بہت سوں کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا تھی۔

انہوں نے جسٹس پارٹی کی بنیاد رکھی تو منظر بشیر بھی ان کے ساتھ تھے۔ منظر بشیر نے ڈھلتی عمر میں رفاقت کے لیے جس خاتون کا انتخاب کیا ، وہ خاصی سوشل اور ”جہاندیدہ‘‘تھیں۔ بدقسمتی اپنے پر پھیلا رہی تھیں۔ رفتہ رفتہ ان کی قیمتی جائیداد بکنا شروع ہوگئی۔ مال روڈ پر”شاہ دین بلڈنگ‘‘ اور لارنس روڈ پر ”المنظر‘‘ بھی بک گئیں۔ایک دن خبر آئی، منظر بشیراہلیہ کے ہمراہ لند ن ایئر پورٹ پر ہیروئن کی سمگلنگ میں پکڑے گئے۔ نیک نام خاندان کے شریف النفس شخص کو اپنی بیگم کے کردہ گناہ میں دیارِ غیر میں سات سال قید کاٹنا پڑ گئی۔کروڑوں اربوں کی جائیداد ہاتھ سے نکل ہی گئی تھی، اب ”عزتِ سادات‘‘ بھی چلے جانے کا صدمہ منظر بشیر کے لیے کہیں زیادہ گہرا تھا۔ وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ گئے تھے لیکن کس قدر حوصلہ ہارے ہوئے انسان میں تھا کہ رہائی کے بعد بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹا اور پاکستان چلے آئے۔ رہی سہی جائیدا د رشتے داروں اور قبضہ گروپوں کی دستبرد میں چلی گئی تھی۔ اس برے وقت میں ایک دیرینہ دوست صحافی سعید بدر کا م آیا، جس نے اپنے ہاں سرچھپانے کو جگہ دے دی۔ یا پھر دل تھا، جو اتنے صدموں کے بعد بھی ساتھ نبھارہاتھا اور پھر 6فروری 2001ء کواس نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔اک عمر دیا اس نے جو ساتھ وہ کافی ہےاب تھک سا گیا تھا دل، آرام ضروری تھا۔(ش س م)

اپنا تبصرہ بھیجیں