جسٹس عباد الرحمان لودھی۔۔۔ غریبوں کا درد رکھنے والا بہادر جج

پاکستان میں نظام عدل پہلے دن سے ہی متنازع رہا ہے جیسے آج کل ہے۔متنازع ہونے کی وجہ ہمارے بیشتر جج صاحبان میں قابلیت کی کمی، عدالتی کام نہ کرنے میں دلچسپی، غیرعدالتی کاموں میں مداخلت کر کے حکمرانوں اور ایگزیکٹو جیسی Feelingsلینے کا شوق اور خوفزدہ ہو کر مقدمات کی سماعت کرنے کا رویہ کہا جاتا ہے لیکن اتنی مایوس کن صورتحال کے بعد بھی ہماری عدلیہ میں ایسے چند جج صاحبان موجود ہیں جن کی وجہ سےابھی تک عوام کا عدالتوں پر اعتماد قائم ہے۔ ایسے جج صاحبان کی عدالتوں سے جو بھی اپنے حق میں یااپنے خلاف مقدمے کا فیصلہ لے کر نکلتا ہے وہ کبھی ناراض نہیں ہوتا بلکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کے مقدمے کا یہی فیصلہ ہوسکتا تھا۔

قانون کا طالب علم اور عدالتی معاملات پر رپورٹنگ کے12 برسوں میں ریٹائرڈ جج صاحبان اور سینئر وکلاء کی صحبت میں بیٹھے شاید ہی کوئی موقع ہو جب جسٹس ریٹائرڈ ملک قیوم صاحب کا اچھے الفاظ میں ذکر نہ سنا ہو۔ہر محفل میں میرے ایک طرح کے ہی سوال رہے ہیں کہ ہر وکیل جسٹس ریٹائرڈ ملک قیوم صاحب کی تعریف کیوں کرتا ہے؟ کوئی وکیل تو ملے جو ان کی برائی کرے لیکن نہیں۔ ایسی محفلوں میں میرا دوسراسوال ہوتا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں اب کون سے ایسے جج صاحبان جنہیں جسٹس ریٹائرڈ ملک قیوم صاحب جیسی عزت نصیب ہے تو جن حاضر سروس جج صاحبان کا ذکر آتا رہا،ان میں خاص الذکر جسٹس عباد الرحمان لودھی صاحب ہیں۔

مسٹر جسٹس عباد الرحمان لودھی عدالت عالیہ میں بطور جج 6 برس اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد 27 دسمبر کو ریٹائر ہونے جا رہے ہیں، ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد لاہور ہائیکورٹ ایک ایسے جج سے محروم ہو جائے گی جسے حقیقی معنوں میں غریب عوام کو انصاف کی فراہمی والا اور وکیل دوست جج کہا جاتا ہے۔ ایک نہیں، دو نہیں، تین نہیں، درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں مقدمات ایسے دیکھے اور سنے گئے ہیں جن میں مسٹر جسٹس عباد الرحمان لودھی نے سائلین کی داد رسی بطور جج تو کی ہی لیکن اس سے پہلے انہوںنے خود کو سائل کی سطح پر لا کر اس کی تکلیف اور مسائل کا ادارا ک کیااور کبھی کبھارتو وکیل بنے بھی دکھائی دیئے ہیں۔

میں نے یہ اکثر سنا ہے کہ ریلیف دینا عدالتوں کی شان ہے لیکن رپورٹنگ کرتے ہوئے بیشتر عدالتوں میں ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ کیس میرٹ پربنتا ہوتا ہے لیکن ہمارے معزز جج صاحبان ریلیف نہیں دیتے بلکہ کبھی اپنا موڈ آف ہونے کی وجہ سے ،کبھی تکنیکی بنیادوں کا سہارا لے کر کیس خارج کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں اور اگر حکومت یا حکومتی ادارے کیخلاف کو ئی مفاد عامہ یا دیگر نوعیت کی درخواست آ بھی جائے تو کوشش کرتے ہیں کہ کسی طریقے سے یہ بلا ہمارے سر سے ٹل ہی جائے۔ نتیجے کے طور پر سائل تو سائل سینئر اور نوجوان وکلاء بھی جج صاحبان پر ’’ درود و سلام‘‘ بھیجتے عدالتوں سے باہر نکلتے ہیں۔

لیکن آئیں میں آپ کو جسٹس عباد الرحمان لودھی کی عدالت میں لے کر چلتا ہوں۔

مقدمہ ہے اپنے ہی ساتھی جج جسٹس عبدالسمیع خان(اب ریٹائر ہو چکےہیں)کیخلاف، ہائیکورٹ میں فائل دھکے کھاتی پھر رہی ہے اور کسی جج میں فیصلہ کرنے کی ہمت پیدا نہیں ہو رہی، جسٹس عبدالسمیع خان پر الزام ہے کہ انہوں نے ماڈل ٹائون میں ایک عام شہری کا قبضے کا پلاٹ خریدا اور پھر اپنے نام منتقل کرانے کیلئے کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ پر اپنا رعب جھاڑنے کی بھی کوشش کی۔۔ فائل گھوم گھما کر جسٹس عباد الرحمان لودھی کے سامنے سماعت کیلئے پیش ہوئی اور چند دنوں میں آئین اور قانون کے مطابق ٹھوک بجا کر اپنے ہی جج کیخلاف فیصلہ دیا اور عام شہری کا تحفظ کیا۔

ایک اور مقدمہ ہے ۔۔۔ملتان روڈ پر ہنجروال کے قریب غریب پاکستانیوں کی رہائش گاہیں ہیں اور وہاں پاک آرمی کا ایمونیشن ڈپو بھی ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی شہری اپنی مرضی کا گھر تعمیر نہیں کر سکتا، کیس جسٹس عباد الرحمان لودھی کے پاس سماعت کیلئے مقرر رہوا اور چند سماعتوں پر ہی غریبوں کے حق میں فیصلہ ہوا ۔ وزارت دفاع کو حکم جاری ہوا کہ ایمونیشن ڈیپو کسی غیررہائشی علاقے میں شہر سے باہر منتقل کیا جائے۔

ایک تیسرا مقدمہ ہے، بھوبتیاں میں ایک ہائوسنگ سوسائٹی کے ہزاروں مکینوں کے رہائشی پلاٹ کی اراضی حکومت کے بدمعاشانہ انداز سے ایکوائر کرنے کا۔۔۔ زندگی بھر کی جمع پونجی سے گھر اور پلاٹ بنانے والے غریبوں کو انصاف ملا اور حکومت کو منہ کی کھانا پڑی۔

غریب شہری کی غربت کا مداوا کرتا جسٹس عباد الرحمان لودھی کا ایک اور فیصلہ۔۔ کیس ہے بچوں کے خرچے کا ۔۔۔ ماتحت عدالت نے دوبچوں کا خرچہ76 سالہ دادا کے ذمہ ڈال دیا۔ دادا ریٹائرڈ سرکاری ملازم تھا اور چند ہزار پنشن کے ساتھ خود کو اور اپنے بوڑھے جیون ساتھی کو پال پوس رہا تھا لیکن فیملی عدالت نے زمینی حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے غیرمنطقی فیصلہ سنا دیا۔ معاملہ اپیل میں جسٹس عباد الرحمان لودھی کے سامنے سماعت کیلئے مقرر ہوا۔ معزز جج نے غریب بزرگ شہری کا بوجھ اتار کر ریاست کو حکم دیا کہ وہ بچوں کا ماہانہ خرچ اٹھائے کیونکہ غریبوں کا بوجھ اٹھانے کی اصل ذمہ داری ریاست کی ہی ہے۔ اس فیصلے میں جسٹس عباد الرحمان لودھی نے پاکستان میں رائج پرانے فیملی قوانین میں ترمیم کی تجاویز دیں بلکہ صوبے بھر کے سیشن ججز کو سفارشات بھجوائیں کہ وہ بھی زمینی حقائق کا جائزہ لینے کے بعد اگر سمجھتے ہیں کہ والدیا اس کا خاندان بچوں کا خرچ نہیں اٹھا سکتا تو محکمہ زکوۃ یا بیت المال کو حکم دیں کہ وہ بچوں کی پرورش کی ذمہ داری نبھائے۔

آگے چلیں۔۔۔ مقدمہ ہے حمزہ شوگر ملز کا 800 کنال سرکاری اراضی پر قبضے کا اور یہ مقدمہ9 برسوں سے لاہور ہائیکورٹ میں زیر التواء تھا مگر وہی بدنصیبی کہ کسی جج کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ وہ اپنے اختیارات کی طاقت کا اندازہ کرتے ہوئے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرتے۔۔۔ پھر کیا ہوا، مقدمہ سماعت کیلئے جسٹس عبادالرحمان لودھی کے سامنے سماعت کیلئے مقرر ہوا، شوگر ملز مافیا کے وکلاء نے روایتی حربے استعمال کرتے ہوئے کیس کو لٹکانے کی کوشش کی لیکن جسٹس لودھی نے شوگر ملز کی اپیل خارج کرتے ہوئے سرکاری اراضی واگزار کرانے کا حکم دیا۔

ایک اور فیصلے کا جائزہ لیتے ہیں، ایسا کیس جس پر ہاتھ ڈالنے سے قبل بے شمار جج کانپنے لگتے ہیں اور خوف کے مارے ’’ ذاتی وجوہات‘‘ کا بہانہ بنا کر سماعت سے ہی معذرت کر لیتے ہیں لیکن جسٹس لودھی کی عدالت میں ’’ذاتی وجوہات‘‘ کی بنا پر سماعت سے معذرت کا واقعہ کم از کم میری نظر سے نہیں گزرا، مقدمہ تھا توہین رسالت کے مقدمے میں مجرم غلام علی اصغر کی سزائے موت کیخلاف اپیل کا۔۔۔ چکوال کا وقوعہ تھا۔ ہر گواہ کا بیان دوسرے سے مختلف، کوئی ثبوت نہیں لیکن پھر بھی ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنا دی لیکن جب اپیل جسٹس لودھی کے سامنے آئی تو انہوں نے پوری ہمت کے ساتھ ایک بے گناہ کو موت کی بھینٹ چڑھنے سے بچایا اور اسے انصاف فراہم کیا۔

اگر رکشے والوں کے مقدمہ کا ذکر نہ کیا تو یہ جسٹس لودھی کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ پاکستان کی اشرافیہ(امیروں) کو یہ بات ناگوار گزری کہ ان کی گزرگاہوں پرغریب رکشے والے روٹی روزی کمانے آتے ہیں، امیروں نے ’’اپنے ذاتی نوکر‘‘ ڈسٹرکٹ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی راولپنڈی سے ایک نوٹیفکیشن جاری کروا کر مال روڈ، پشاور روڈ، بینک روڈ، کشمیر روڈ، آدم جی روڈ، محفوظ روڈ، سول لائنز، آر اے بازار اور ایئر پورٹ روڈ پر رکشوں کے آنے پر پابندی عائد کر دی اور بہانہ بنایا ٹریفک جام کا۔۔۔ غریب رکشہ والوں پر تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی۔ زنجیر عدل ہلائی گئی، معاملہ جسٹس لودھی کی عدالت میں آیا اور پھر وہی ہوا جس کا ذکر کرتا ہر وکیل پایا جاتا ہے کہ جسٹس عباد الرحمان لودھی صحیح معنوں میں غریب پرور جج ہیں، جسٹس لودھی نے محکمہ ٹرانسپورٹ کی پابندی غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کی اور غریب رکشہ والوں کو انصاف فراہم کیا۔

جسٹس لودھی کے ایسے کئی مقدمات ہیں جن پر ان کی ذہانت، ایمانداری، آئین اور قانون کی بالادستی پر مبنی فیصلے، غریبوں کی فوری انصاف کی فراہمی اور مقدمات کے فوری فیصلوں پر بے شمار صفحے لکھے جا سکتے ہیں۔ مفاد عامہ کی آئینی درخواستیں ہوں،دیوانی مقدمات ہوں یا فوجداری کام، انتخابات کے مقدمات ہوں یا پھر طلاق، نان و نفقہ اور بچوں کے اخراجات کے مقدمے جسٹس عباد الرحمان لودھی نے ہمیشہ ایک آل رائونڈر جج کی طرح عوام کو انصاف فراہم کیا ۔

جسٹس لودھی جیسی عزت و تکریم عدالتی تاریخ میں بہت ہی کم جج صاحبان کو نصیب ہوئی ہے، ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے وکلاء کو ان کی کمی تب تک محسوس ہوتی رہے گی جب تک کوئی نیا غریب پرور جج لاہور ہائیکورٹ میں نہیں آتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں