بے نظیر بھٹو کا قاتل کون ۔۔۔۔۔؟؟؟

لندن (ویب ڈیسک) برطانوی صحافی اوئن بینیٹ جونز نے انکشاف کیا ہے کہ سابق صدر ، آرمی چیف جنرل( ر)پرویز مشرف نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ شاید ملک کی اسٹیبلشمنٹ میں موجود سرکش عناصر بینظیر بھٹو کے قتل کی منصوبہ بندی میں ملوث ہوں۔برطانوی صحافی کے مطابق ایک حالیہ

انٹرویو میں پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اس حوالے سے کوئی حقائق تو موجود نہیں ہیں لیکن پاکستانی معاشرہ مذہبی طور پر بٹا ہوا ہے، ایسی خاتون جو مغربی ممالک کی جانب مائل ہوں، وہ ریاست کے شر پسند عناصر کی نظر میں آسکتی ہیں۔برطانوی صحافی اوئن بینیٹ جونز نے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات نتیجہ خیز نہ ہونے کا ذمہ دار خود پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ٹھرا دیا،2007 میں پاکستان کے صدر اور فوجی آمر، سابق جنرل پرویز مشرف نے دس سال بعد دیے جانے والے ایک انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ شاید ملک کی سٹیبلشمینٹ بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث تھی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سٹیبلیشمینٹ میں موجود سرکش عناصر کا پاکستانی طالبان سے بینظیر بھٹو کے قتل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے تعلق تھا، تو انھوں نے جواب دیا: ‘شاید۔ ہاں بالکل۔ کیونکہ ہمارا معاشرہ مذہبی طور پر بٹا ہوا ہے۔’اور پرویز مشرف کے مطابق ان عناصر کی موجودگی شاید بینظیر بھٹو کی موت کا سبب بنی ہو۔پاکستان کے سابق سربراہ کی زبان سے نکلا ہوا یہ فقرہ کافی تعجب انگیز ہے۔ عمومی طور پر پاکستان میں فوجی رہنما شدت پسند جہادی حملوں میں ریاست کے ملوث ہونے کے الزام کو قطعاً غلط قرار دیتے ہیں، یہ

پوچھنے پر کہ کیا انھیں ریاست کے شرپسند عناصر کے اس حملے میں ملوث ہونے کے بارے میں کوئی مخصوص معلومات تھیں، تو پرویز مشرف نے جواب دیا، ‘میرے پاس کوئی حقائق تو موجود نہیں ہیں۔ لیکن میرے خیال میں میرا اندازہ کافی حد تک درست ہے۔ ایک ایسی خاتون جو مغربی ممالک کی جانب مائل ہو، وہ ان عناصر کی نظر میں آسکتی ہے۔’پرویز مشرف پر خود اس مقدمے میں قتل کا الزام، قتل کی سازش اور قتل کرنے کے لیے مدد فراہم کرنے کے الزامات لگے ہیں۔ سرکاری وکلا کے مطابق پرویز مشرف نے 25 ستمبر کو بینظیر بھٹو کو فون کیا جب وہ نیو یارک میں تھیں اور اپنی آٹھ سالہ ملک بدری ختم کرنے سے تین ہفتے دور تھیں۔بینظیر بھٹو کے طویل عرصے سے قریبی رفیق مارک سیگل اور صحافی ران سسکنڈ دونوں نے بتایا کہ وہ اس فون کال کے وقت بینظیر بھٹو کے ساتھ موجود تھے۔مارک سیگل کہتے ہیں کہ فون کال ختم ہونے کے فوراً بعد بینظیر بھٹو نے کہا:’اس نے مجھے دھمکی دی ہے۔ اس نے کہا کہ واپس مت آؤ۔ اس نے مجھے خبردار کیا کہ واپس مت آنا۔”اس نے کہا کہ میرے واپس آنے کے بعد اگر مجھے کچھ ہوا تو وہ اس کا ذمہ دار نہیں ہوگا اور مزید کہا کہ میری زندگی کی سلامتی

اور سکیورٹی پرویز مشرف سے میرے تعلق پر منحصر ہے۔’دوسری جانب پرویز مشرف سختی سے ایسی کسی بھی کال کرنے کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھوں نے بینظیر بھٹو کے قتل کے احکامات جاری نہیں کیے۔بی بی سی سے حال ہی میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ‘سچی بات تو یہ ہے کہ میں اس پر ہنستا ہوں۔ میں کیوں کروں گا اسے قتل؟’لیکن پرویز مشرف کے خلاف قانونی کارروائی اس وقت معطل ہے کیونکہ کہ سابق صدر اس وقت دبئی میں خود ساختہ جلا وطنی کاٹ رہے ہیں۔ اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں اوئن بینیٹ جونز نے دعویٰ کیا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات نیک نیتی سے نہیں کی گئیں، تفتیشی افسران، وکلا، گواہوں کو پرسرار انداز میں قتل کردیا گیا، 10 سالوں میں اب تک صرف دو پولیس اہلکاروں کو سزا ہوئی۔برطانوی خبررساں ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں ایسی متعدد خفیہ دستاویزات حاصل ہوئیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس والے نچلے درجے کے کارکنان کی گرفتاری کے بعد اصل سرغنہ یا ان کے گروہ کو ڈھونڈنا ہی نہیں چاہتے تھے۔بینظیر بھٹو کی سکیورٹی پر مامور گارڈ خالد شہنشاہ اور تفتیش پر مامور سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار کو پر اسرار انداز میں قتل کر دیا گیا،

رپورٹ میں 15 سالہ خودکش بمبار بلال کے معاون اکرام اللہ کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ زندہ ہے جبکہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ مارا گیا۔تحقیقاتی رپورٹ میں سابق آرمی چیف اور صدرپرویز مشرف کی 25 ستمبر کو کی جانیوالی اس فون کال کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کو بینظیر بھٹو نے قتل کی دھمکی قرار دیا تھا، اور جس کی تصدیق امریکی صحافی مارک سیگل کرتے ہیں کہ وہ اس کال کے وقت بینظیر بھٹو کے ساتھ موجود تھے۔مارک سیگل کہتے ہیں کہ فون کال ختم ہونے کے فوراً بعد بینظیر بھٹو نے کہا کہ مشرف نے انہیں دھمکی دی ہے کہ واپس مت آؤ، اگر انہیں (بینظیر) کو کچھ ہوا تو وہ اس وہ ذمہ دار نہیں ہوں گے، ان کی زندگی کی سلامتی اور سکیورٹی پرویز مشرف سے ان کے تعلق پر منحصر ہے۔دوسری جانب پرویز مشرف سختی سے ایسی کسی بھی کال کرنے کی تردید کرتے ہیں۔ برطانوی میڈیا سے حال ہی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر ہنستے ہیں کہ آخر وہ بینظیر کو کیوں قتل کریں گے بلاول بھٹو کی جانب سے بے نظیر بھٹو کا قاتل قرار دیے جانے پر سابق صدر پرویز مشرف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول،

زرداری اور نواز شریف فوج اور مجھ پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیںنجی ٹی وی کے پروگرام دنیا کامران خان کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ بلاول عورتوں کی طرح میرے خلاف نعرے لگوا رہا ہے، پہلے مرد بنے اور پھر میرے خلاف نعرے لگائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول بچوں کی طرح الزامات نہ لگائے، میرے خلاف ثبوت سامنے لائے۔ پرویز مشرف نے کہا کہ بے نظیر کو سیکیورٹی دینا میری ذمہ داری نہیں تھی، تاہم حکومت نے انہیں بہترین سیکیورٹی فراہم کی تھی۔ لیاقت باغ میں بی بی دو گھنٹے تک عوام میں رہیں اور محفوظ گاڑی میں بیٹھیں۔ گاڑی میں موجود باقی لوگوں کو کچھ نہیں ہوا۔ اگر بی بی گاڑی سے سر باہر نہ نکالتیں تو انہیں بھی کچھ نہیں ہونا تھا۔سابق صدر کا کہنا تھا کہ سوچنا یہ ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کا فائدہ کسے ہوا، مجھے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ میرا تو بینظیر کے ساتھ معاہدہ تھا۔ اس کا فائدہ تو آصف زرداری کو ہوا جو بلاول کے والد محترم ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ زرداری نے جعلی وصیت سامنے لا کر بی بی کی پارٹی اور دولت پر قبضہ کر لیا۔ اب بلاول اپنے والد زرداری کے خوف سے میرے خلاف نعرے لگوا رہا ہے۔

انہوں نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بے نظیر کی بم پروف گاڑی کی چھت کس کے کہنے پر کاٹی گئی؟ بے نظیر کو کس نے سر باہر نکال کر کارکنوں کو ہاتھ ہلانے کو کہا تھا۔ جس فون پر تین مرتبہ کال آئی تھی، اسے کس نے غائب کر دیا تھا؟ رحمان ملک بی بی کا سیکیورٹی چیف تھا، اس وقت اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر کہاں غائب ہو گیا تھا؟ زرداری کے جیل کا ساتھی خالد شہنشاہ کس نے قتل کروایا؟ اور بعد ازاں اس کے قاتل کو بھی مار دیا گیا۔ بی بی کا پوسٹ مارٹم کس نے نہیں ہونے دیا؟ یہ تمام ثبوت ایک ہی شخص کی طرف جاتے ہیں اور وہ آصف علی زرداری ہے۔ پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے افتخار چودھری کو میرے خلاف استعمال کیا۔ یہ لوگ میری واپسی سے خوفزدہ ہیں۔ ان کا شور ان کے خوف کو ظاہر کرتا ہے۔ ان سب باتوں کا تجزیہ کر رہا ہوں۔ درست وقت پر واپس آؤں گا۔ عدالتوں کا سامنا پہلے بھی کیا تھا، اب بھی کروں گا۔ سابق صدر نے کہا کہ میں بموں اور گولیوں کے آگے کھڑا رہا ہوں، کیسز سے نہیں ڈرتا۔ اپنے لئے نہیں، ملک اور غریب عوام کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں