بھارت: ‘غیر مسلم’ تارکین وطن کو شہریت دینے کا ترمیمی بل منظور

بھارت کی لوک سبھا (ایوانِ زیریں) نے کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے باوجود پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے ‘غیر مسلموں’ کو بھارتی شہریت دینے کا ترمیمی بل منظور کر لیا۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے شمال مغربی علاقے کی بیشتر جماعتوں یہاں تک کہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے بھی اس بل کو ’ آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف‘ قرار دیا تھا۔

بھارت میں شہریت کے ترمیمی بل 2016 کے خلاف شمال مشرقی ریاست آسام میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی اور جھڑپوں میں 5 افراد زخمی بھی ہوئے۔

گزشتہ روز نیشنل ڈیموکریٹ الائنس کی حکومت کی جانب سے ترمیمی بل کی حمایت کے اعلان کے بعد بی جے پی کے علاقائی اتحادی ‘آسوم گانا پرشاد’ کی جانب سے آسام میں احتجاج کیا گیا۔

ترمیمی بل منظور ہونے کے بعد آسام میں بی جے پی کے ترجمان مہدی عالم بورا نے پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔

بھارتی شہریت کے ترمیمی بل 2016 کے تحت شہریت سے متعلق 1955 میں بنائے گئے قوانین میں ترمیم کی جائے گی۔

اس بل کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل 3 پڑوسی ممالک سے بھارت آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بدھ متوں، جینز، پارسیوں اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دی جائےگی۔

اس بل کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ بل کے تحت غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش سے آنے والے ہندو تارکین وطن کو شہریت دی جائے گی، جو مارچ 1971 میں آسام آئے تھے اور یہ 1985 کے آسام معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔

خیال رہے کہ آسام میں غیر قانونی ہجرت ایک حساس موضوع ہے کیونکہ یہاں قبائلی اور دیگر برادریاں باہر سے آنے والوں کو قبول نہیں کرتیں۔

بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے مذکورہ بل پر بحث کے جواب میں کہا کہ ’ان تمام تارکین وطن کا بوجھ پورا ملک برداشت کرے گا، صرف آسام کو اس بوجھ کو برداشت نہیں کرنا ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’بھارتی حکومت، ریاست اور آسام کے شہریوں کو ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے‘۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ بل شہریت کو مذہب سے جوڑ رہا ہے اور ملک کو مذہب سے غیر جانبدار ہونا چاہیے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ’کچھ لوگوں نے پوچھا کہ اس بل میں عیسائیوں کو کیوں شامل کیا گیا ہے، تقسیم ہند کے بعد سے انہوں نے بھی بہت سی مشکلات کا سامنا کیا ہے اس لیے ہم نے اس ترمیمی بل میں انہیں بھی شامل کیا، اس سے زیادہ سیکولر بل اور کیسے ہوسکتا ہے‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں